دنیا کی گیارویں عالمی وباء۔۔۔۔۔کرووناوائرس ۔۔!!
پہلی وباء۔۔۔ رومن ایمپائر 541ء میں "طاعون" جس سے 250000000(ڈھائی کروڑ)ھلاکتیں ھوئیں۔۔۔!
دوسری وباء۔۔۔165ء میں حسرہ۔چیچک اور طاعون کی صورت میں پھیلی جس نے 5000000 پچاس لاکھ انسانوں کو زمین بوس کیا۔۔!!
تیسری وباء چین سے1334ء میں شروع ھوا اور اس طاعون نے یورپ کی 60%آبادی کاصفایاکیا۔۔۔!!
1576ء میں کوکولٹ ذیلی نامی وبائی آفت جیسے کالایرقن کہاجاتاتھا نے میکسیکو کی لاکھوں آبادی صفحہ ھستی سے مٹادی۔۔۔!
1852ء میں بھارت سے برطانیہ تک پھیلنے والے ھیضے نے 80ہزار سے ذیادہ انسانوں کابھینٹ لیا۔۔۔!
1855ء میں چین میں طاعون کی وباء نے ایک کروڑ کا خون چوسا۔۔۔!
1957ء میں سے چین سے فلواورانفلونزا کی وبادنیا کے کئ ممالک میں پھیلی اور بیس لاکھ کے قریب انسان لقمہ اجل بنے۔۔۔!
1918ء میں"عظیم فلو" کی وباء نے چارکروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔۔۔!
1920ء سے1960 ء تک ایڈز نے ساڑھے چھ کروڑ انسانوں کو متاثر کیا جس میں ڈھائی کروڑ انسان زندگی کی بازی ہارگئے۔۔!!!
اور اب دنیاگیارویں بار کرووناوائرس جیسے تباہ کن وباء کی لپیٹ میں ھے جو چائناکے شہر ووھان میں تباہی مچانے کے بعددنیا میں تیزی سے پھیل رہی ھے جو لاعلاج ھے جس نے چند دنوں میں ہزاروں زندگیاں چھینی اور انسانی ھلاکتیں دن بدن بڑھ رہی ھیں عالمی سطح پر اس وباءسے بچنے کی واحد صورت قرنطینہ قرار دیا جارہاھے اس لیے ترقیافتہ ممالک لاک ڈاون کرکے اپنے عوام کی جانوں کا تخفظ کرنے کیلئے سرتھوڑ کوششیں کررہی ھے اور ان کے عوام بھی ریاستی قوانین کی بھرپور پاسداری کرکے سنجیدگی سے حکومتی اقدامات پر عمل درآمد کرکے خود اور اپنی قوم کو اس موذی آفت سے بچانے کیلئے برسرپیکار ھیں۔۔
یاد رکھیئے کروونا لاعلاج ھے ۔۔۔۔اس کا واحد علاج احتیاط ھے۔۔۔بس ایک واہد اللہ کی ہستی ہے جو اپنی محلوق کو اس جان لیوا وبا سے بچا سکتا ہے. اللہ ہم سب کو اور پوری انسانیت کو اس وبا سے نجات دلائے امین
پہلی وباء۔۔۔ رومن ایمپائر 541ء میں "طاعون" جس سے 250000000(ڈھائی کروڑ)ھلاکتیں ھوئیں۔۔۔!
دوسری وباء۔۔۔165ء میں حسرہ۔چیچک اور طاعون کی صورت میں پھیلی جس نے 5000000 پچاس لاکھ انسانوں کو زمین بوس کیا۔۔!!
تیسری وباء چین سے1334ء میں شروع ھوا اور اس طاعون نے یورپ کی 60%آبادی کاصفایاکیا۔۔۔!!
1576ء میں کوکولٹ ذیلی نامی وبائی آفت جیسے کالایرقن کہاجاتاتھا نے میکسیکو کی لاکھوں آبادی صفحہ ھستی سے مٹادی۔۔۔!
1852ء میں بھارت سے برطانیہ تک پھیلنے والے ھیضے نے 80ہزار سے ذیادہ انسانوں کابھینٹ لیا۔۔۔!
1855ء میں چین میں طاعون کی وباء نے ایک کروڑ کا خون چوسا۔۔۔!
1957ء میں سے چین سے فلواورانفلونزا کی وبادنیا کے کئ ممالک میں پھیلی اور بیس لاکھ کے قریب انسان لقمہ اجل بنے۔۔۔!
1918ء میں"عظیم فلو" کی وباء نے چارکروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔۔۔!
1920ء سے1960 ء تک ایڈز نے ساڑھے چھ کروڑ انسانوں کو متاثر کیا جس میں ڈھائی کروڑ انسان زندگی کی بازی ہارگئے۔۔!!!
اور اب دنیاگیارویں بار کرووناوائرس جیسے تباہ کن وباء کی لپیٹ میں ھے جو چائناکے شہر ووھان میں تباہی مچانے کے بعددنیا میں تیزی سے پھیل رہی ھے جو لاعلاج ھے جس نے چند دنوں میں ہزاروں زندگیاں چھینی اور انسانی ھلاکتیں دن بدن بڑھ رہی ھیں عالمی سطح پر اس وباءسے بچنے کی واحد صورت قرنطینہ قرار دیا جارہاھے اس لیے ترقیافتہ ممالک لاک ڈاون کرکے اپنے عوام کی جانوں کا تخفظ کرنے کیلئے سرتھوڑ کوششیں کررہی ھے اور ان کے عوام بھی ریاستی قوانین کی بھرپور پاسداری کرکے سنجیدگی سے حکومتی اقدامات پر عمل درآمد کرکے خود اور اپنی قوم کو اس موذی آفت سے بچانے کیلئے برسرپیکار ھیں۔۔
یاد رکھیئے کروونا لاعلاج ھے ۔۔۔۔اس کا واحد علاج احتیاط ھے۔۔۔بس ایک واہد اللہ کی ہستی ہے جو اپنی محلوق کو اس جان لیوا وبا سے بچا سکتا ہے. اللہ ہم سب کو اور پوری انسانیت کو اس وبا سے نجات دلائے امین
Comments
Post a Comment